لیڈری کا سوال ہے

محمد اشرف شکوری

آپ نےکبھی اس مسافر کی حالت دیکھی ہے جو کسی اجنبی ملک میں ہو اور اچانک راستہ بھول جائے۔پریشانی اور اضطراب کی اس حالت میں پھر اسے کچھ لوگ ملیں جو دعویٰ کریں کہ انہیں اس کی منزل کی طرف جانے والے راستے کا علم ہے لیکن وہ راہزن ہوں یا پھر ہوں تو مخلص اور محض آپ کی پریشانی دیکھ کر آپ کی مدد کو آئے ہوں لیکن خود راستے سے لاعلم ہوں تو سوچیں پھر آپ کا کیا حشر ہوگا۔

من حیث القوم ہم بھی ایسے مسافر ہیں جو اپنے ہی ملک میں کسی اجنبی کی طرح راستہ بھول گیا ہے۔چاروں طرف سے ہمیں لیڈر نما راہزنوں نے گھیر ا ہوا ہے۔یہ رنگ برنگے لیڈر زندگی کے ہر شعبے میں ہم پر مسلط ہیں۔ ملکی سیاست کے ایوانوں سے لے کرمحلے کی گلیوں تک، دفتری ہنگاموں سے لے کر مسجد کے منبرو محراب تک اور خدا سے لے کر جنسیات تک یہ لیڈر ہمارے اعمال سے لے کر ہمارے افکار تک پرقابض ہیں۔ہماری اپنی کوئی خواہشات نہیں بس ایک روبوٹ کی طرح ان کی مرضی اور اشارے پر ناچنا ہمارا مقدر بن چکا ہے۔

ان کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں علماء، سیاستدان، مختلف یونینوں اور پیشہ وارانہ ایسوسی ایشنوں کے راہنما سبھی شامل ہیں۔ان کے رنگ برنگےنعروں اور وعدوں نے ہمارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو اس حد تک یرغمال بنایا ہوا ہے کہ ہم اپنے انتہائی قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ بھی ان کی خاطر الجھ پڑتے ہیں۔ہم سامنے پڑے بالکل ننگے حقائق تک کو انہی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ہم پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی باتیں کرتے نہیں تھکتے لیکن مانتے صرف ان کی ہیں۔ یہ رات کو دن کہیں تو ہم دن مانتے ہیں اور دن کو رات بولیں تو ان پر ایمان لے آتے ہیں۔

آپ کو معلوم ہے ا س سارے المیے کا ذمہ دار کون ہے؟؟؟اس ملک کا ہر وہ شہری جو قابل ہے لیکن اپنی قابلیت کا اظہار کرنے سے کتراتا ہے، شرماتا ہے اور ایک کونے میں دبکا بیٹھا ہے۔ اس کی اس حرکت سے ایک خلا پیدا ہوا جسے پُر کرنے کے لئے جگہ جگہ پر کھمبیوں کی طرح بونوں کی یہ فصل اگ پڑی۔

Responses

No Responses found yet.

Leave your comment